Thursday, August 5, 2010

آج جاگ کر دیکھو

روز ہی تو سوتی ہو
آج جاگ کر دیکھو
آسماں پہ بادل ہیں
اور مہک ہوا میں آنے والی بارش کی
آج سوگیں گر تم
پھر نہ دیکھ پاو گی
بارشوں کے موسم کو
کس طرح سے بارش کی چومتی ہیں منہ بوندیں
کھیلتے ہیں زلفوں سے
نم ہوا کے جھونکے کیوں
کیسے برق گرتی ہے
اور گرجتا ہے بادل
آج سوگیں گر تم
سن نہ پاو گی پھر تم
راگ ٹین کی چھت پر
بوندیاں جو گایں گی
اور یہ بھی ممکن ہے
اک ہوا کا جھونکا ہی دور مجھ کو لے جاے
ہاتھ پھر نہ کچھ نہ آے
آنکھ کھولنے پر تم
ہاتھ ملتی رہ جاو
آج رات مت سونا
روز ہی تو سوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔

انور زاہدی

No comments:

Post a Comment