روز ہی تو سوتی ہو
آج جاگ کر دیکھو
آسماں پہ بادل ہیں
اور مہک ہوا میں آنے والی بارش کی
آج سوگیں گر تم
پھر نہ دیکھ پاو گی
بارشوں کے موسم کو
کس طرح سے بارش کی چومتی ہیں منہ بوندیں
کھیلتے ہیں زلفوں سے
نم ہوا کے جھونکے کیوں
کیسے برق گرتی ہے
اور گرجتا ہے بادل
آج سوگیں گر تم
سن نہ پاو گی پھر تم
راگ ٹین کی چھت پر
بوندیاں جو گایں گی
اور یہ بھی ممکن ہے
اک ہوا کا جھونکا ہی دور مجھ کو لے جاے
ہاتھ پھر نہ کچھ نہ آے
آنکھ کھولنے پر تم
ہاتھ ملتی رہ جاو
آج رات مت سونا
روز ہی تو سوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔
انور زاہدی

No comments:
Post a Comment