Thursday, August 5, 2010

بارش کے قطرے گرتے ہیں

گرتے ہیں بارش کے قطرے
امبر سے دھرتی پر
پربت پر وادی میں
چپ کے سونے سناٹے میں
 بارش کے قطرے گرتے ہیں
پر اسرار دشا میں
جنگل میں پھیلے صحرا میں
باغوں میں پھولوں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
پیڑوں کے پتوں پر
جانے پہچانے رستوں پر
اور بے نام قبر پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
کچھ انجان جگہوں پر
شہر کی سونی گلیوں میں
اور سب آباد گھروں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
چہرے پر آنکھوں پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
اس دل کے آنگن میں
آنکھیں بارش م،یں بھیگی ہیں
دل بیٹھا جاتا ہے
گرتے ہیں بارش کے قطرے
اور جی ہولا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
رستہ دھندلا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گھر تم کو آنا ہے

انور زاہدی

No comments:

Post a Comment