گرتے ہیں بارش کے قطرے
امبر سے دھرتی پر
پربت پر وادی میں
چپ کے سونے سناٹے میں
بارش کے قطرے گرتے ہیں
پر اسرار دشا میں
جنگل میں پھیلے صحرا میں
باغوں میں پھولوں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
پیڑوں کے پتوں پر
جانے پہچانے رستوں پر
اور بے نام قبر پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
کچھ انجان جگہوں پر
شہر کی سونی گلیوں میں
اور سب آباد گھروں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
چہرے پر آنکھوں پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
اس دل کے آنگن میں
آنکھیں بارش م،یں بھیگی ہیں
دل بیٹھا جاتا ہے
گرتے ہیں بارش کے قطرے
اور جی ہولا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
رستہ دھندلا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گھر تم کو آنا ہے
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment