آبلہ پا ہو ں
لہو رنگ ہیں میری آنکھیں
گھر مرا دشت میں ہے
خاک مرے بالوں میں
کس طرح تیرے لیے
جان بہاراں لاوں
اوس میں بھیگے گلاب
انور زاہدی
shairi aik kahani
Thursday, August 5, 2010
آج جاگ کر دیکھو
روز ہی تو سوتی ہو
آج جاگ کر دیکھو
آسماں پہ بادل ہیں
اور مہک ہوا میں آنے والی بارش کی
آج سوگیں گر تم
پھر نہ دیکھ پاو گی
بارشوں کے موسم کو
کس طرح سے بارش کی چومتی ہیں منہ بوندیں
کھیلتے ہیں زلفوں سے
نم ہوا کے جھونکے کیوں
کیسے برق گرتی ہے
اور گرجتا ہے بادل
آج سوگیں گر تم
سن نہ پاو گی پھر تم
راگ ٹین کی چھت پر
بوندیاں جو گایں گی
اور یہ بھی ممکن ہے
اک ہوا کا جھونکا ہی دور مجھ کو لے جاے
ہاتھ پھر نہ کچھ نہ آے
آنکھ کھولنے پر تم
ہاتھ ملتی رہ جاو
آج رات مت سونا
روز ہی تو سوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔
انور زاہدی
آج جاگ کر دیکھو
آسماں پہ بادل ہیں
اور مہک ہوا میں آنے والی بارش کی
آج سوگیں گر تم
پھر نہ دیکھ پاو گی
بارشوں کے موسم کو
کس طرح سے بارش کی چومتی ہیں منہ بوندیں
کھیلتے ہیں زلفوں سے
نم ہوا کے جھونکے کیوں
کیسے برق گرتی ہے
اور گرجتا ہے بادل
آج سوگیں گر تم
سن نہ پاو گی پھر تم
راگ ٹین کی چھت پر
بوندیاں جو گایں گی
اور یہ بھی ممکن ہے
اک ہوا کا جھونکا ہی دور مجھ کو لے جاے
ہاتھ پھر نہ کچھ نہ آے
آنکھ کھولنے پر تم
ہاتھ ملتی رہ جاو
آج رات مت سونا
روز ہی تو سوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔
انور زاہدی
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گرتے ہیں بارش کے قطرے
امبر سے دھرتی پر
پربت پر وادی میں
چپ کے سونے سناٹے میں
بارش کے قطرے گرتے ہیں
پر اسرار دشا میں
جنگل میں پھیلے صحرا میں
باغوں میں پھولوں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
پیڑوں کے پتوں پر
جانے پہچانے رستوں پر
اور بے نام قبر پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
کچھ انجان جگہوں پر
شہر کی سونی گلیوں میں
اور سب آباد گھروں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
چہرے پر آنکھوں پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
اس دل کے آنگن میں
آنکھیں بارش م،یں بھیگی ہیں
دل بیٹھا جاتا ہے
گرتے ہیں بارش کے قطرے
اور جی ہولا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
رستہ دھندلا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گھر تم کو آنا ہے
انور زاہدی
امبر سے دھرتی پر
پربت پر وادی میں
چپ کے سونے سناٹے میں
بارش کے قطرے گرتے ہیں
پر اسرار دشا میں
جنگل میں پھیلے صحرا میں
باغوں میں پھولوں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
پیڑوں کے پتوں پر
جانے پہچانے رستوں پر
اور بے نام قبر پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
کچھ انجان جگہوں پر
شہر کی سونی گلیوں میں
اور سب آباد گھروں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
چہرے پر آنکھوں پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
اس دل کے آنگن میں
آنکھیں بارش م،یں بھیگی ہیں
دل بیٹھا جاتا ہے
گرتے ہیں بارش کے قطرے
اور جی ہولا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
رستہ دھندلا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گھر تم کو آنا ہے
انور زاہدی
Subscribe to:
Posts (Atom)

