Thursday, August 5, 2010

اوس میں بھیگے گلاب

آبلہ پا ہو ں
لہو رنگ ہیں میری آنکھیں
گھر مرا دشت میں ہے
خاک مرے بالوں میں
کس طرح تیرے لیے
جان بہاراں لاوں
اوس میں بھیگے گلاب


انور زاہدی

آج جاگ کر دیکھو

روز ہی تو سوتی ہو
آج جاگ کر دیکھو
آسماں پہ بادل ہیں
اور مہک ہوا میں آنے والی بارش کی
آج سوگیں گر تم
پھر نہ دیکھ پاو گی
بارشوں کے موسم کو
کس طرح سے بارش کی چومتی ہیں منہ بوندیں
کھیلتے ہیں زلفوں سے
نم ہوا کے جھونکے کیوں
کیسے برق گرتی ہے
اور گرجتا ہے بادل
آج سوگیں گر تم
سن نہ پاو گی پھر تم
راگ ٹین کی چھت پر
بوندیاں جو گایں گی
اور یہ بھی ممکن ہے
اک ہوا کا جھونکا ہی دور مجھ کو لے جاے
ہاتھ پھر نہ کچھ نہ آے
آنکھ کھولنے پر تم
ہاتھ ملتی رہ جاو
آج رات مت سونا
روز ہی تو سوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔

انور زاہدی

بارش کے قطرے گرتے ہیں

گرتے ہیں بارش کے قطرے
امبر سے دھرتی پر
پربت پر وادی میں
چپ کے سونے سناٹے میں
 بارش کے قطرے گرتے ہیں
پر اسرار دشا میں
جنگل میں پھیلے صحرا میں
باغوں میں پھولوں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
پیڑوں کے پتوں پر
جانے پہچانے رستوں پر
اور بے نام قبر پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
کچھ انجان جگہوں پر
شہر کی سونی گلیوں میں
اور سب آباد گھروں پر
گرتے ہیں بارش کے قطرے
چہرے پر آنکھوں پر
بارش کے قطرے گرتے ہیں
اس دل کے آنگن میں
آنکھیں بارش م،یں بھیگی ہیں
دل بیٹھا جاتا ہے
گرتے ہیں بارش کے قطرے
اور جی ہولا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
رستہ دھندلا تا ہے
بارش کے قطرے گرتے ہیں
گھر تم کو آنا ہے

انور زاہدی